❶ شب براءت میں عبادت کرنا لیکن کوئی خاص شکل اور عمل متعین نہیں، آپﷺ نے فرمایا اللّٰه تعالی اس رات قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کی گنتی سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں (ترمذی, ابن ماجہ)
اس رات میں کچھ لوگ اللّٰه کی رحمت ومغفرت سے محروم رہ جاتے ہیں۔وہگناہیہ_ہیں۞
- مشرک
- جس کے دل میں کینہ ہو
- جماعت حق سے الگ ہونے والا
- ظلم سےمحصول(بھتہ) لینےوالا
- جادوگر
- غیب کی خبریں بتانے والا جیساکہ آج کل کے فال نکالنے والے حضرات اور عملیات والے کرتے ہی
- ہاتھوں کی لکیریں وغیرہ دیکھ کر لوگوں کو یقین دلانے والا
- جوحاکم کوناجائزمحصول (ٹیکس)کےطریقے بتائے
- طبل یانردوالا, (موسیقی کے آلات) رکھنے والا
- قطع رحمی کرنے والا
- تکبر کےطور پر کپڑے ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا
- والدین کوستانے والا
- ہمیشہ شراب پینے والا
15تاریخ کاروزہ
روزہ کے متعلق صرف ایک حدیث آئ ہے جسکے متعلق محدثین کرام نے فرمایا کہ یہ ضعیف ہے اور اسی وجہ سے علماء امت نے فرمایا کہ اس دن کاروزہ سنت سمجھ کررکھنا بدعت ہے اور آپﷺ نے جس طرح عشرہ ذی الحج، عاشورہ عید کے چھ روزوں کی ترغیب دی اور فضیلت بیان فرمائ اس دن کے روزہ نہیں فرمائ لہذا ایام بیض (13٫14٫15 شعبان) کے روزے رکھنے چاہئیں۔
قبرستان جانا
قبرستان جانا بھی آپﷺ سے صرف ایک دفعہ ثابت ہے پوری زندگی میں شب براءت کوصرف ایک مرتبہ گئے وہ بھی ایسے قبرستان میں جہاں نہ لائٹ تھی نہ چراغ اور وہاں جاکر صرف تمام مُردوں کیلئے دعاء فرمائ، اسکے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ آج کل جوکچھ قبرستانوں میں ہوتاہے یہ سب بدعت اور ناجائز بلکہ حرام ہے۔
رات کی سنت
اس رات جاگنا مقصود نہیں بلکہ عبادت مقصود ہے، اگر کوئ عبادت نہیں کرسکتا تووہ نماز عشاء باجماعت ادا کرکے سوجائے اور صبح نمازفجر باجماعت ادا کرے، یہ زیادہ بہتر ہے,
قضاء عمری سے متعلق جو نماز مشہور ومروج ہے چار رکعت والی خاص طریقہ سےاسکا حدیث میں کہیں ثبوت نہیں نمازیں جتنی قضاء ہیں پوری پڑھنی لازم ہے,
صلوٰة التسبیح کی جماعت بدعت ہے البتہ انفرادی طور پر اس رات پڑھنا بہتر ہے لیکن واضح رہے کہ یہ اس رات کی سنت نہیں