ملیریا ایک سنگین بیماری ہے جوانوفیلس مچھر کے کاٹنے کے ذریعہ انسانوں میں پھیلتا ہے جس سے پلازموڈیم نامی جراسیم خون میں شامل ہوکر جگرتک پہنچتا ہے اور کئی دن تک اس میں رہتا ہے ، اس سے خون کے سرخ خلیوے متاثر ہوتے ہیں اور یہ خون کے اندربڑھتا رہتا ہے جس سے جسم کا اندرونی نظام مزید خراب ہوتا ہے۔ ملیریا سرد اورآبائی علاقوں میں عام ہے جہاں ہرسال لگ بھگ 290 ملین افراد متاثر ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم آپ کو ملیریا کی علامات اور اس کے علاج کے طریقے بتائیں گئیں۔
ملیریا کی علامات
ملیریا کے جرسیموں کی متعدد قسمیں ہیں جو انسانوں کو متاثر کرسکتی ہیں ، جیسے پلازموڈیم ویویکس(Plasmodium vivax) ، پلازموڈیم اوول(Plasmodium ovale) ، پلازموڈیم ملیریا(Plasmodium malariae) اور پلازموڈیم فیلیسیپرم (Plasmodium falciparum) جو کہ سب سے خطرناک ہے۔علامات عام طور پر انفیکشن کے دس دن سے چار ہفتوں میں ظاہر ہوتی ہیں اور وہ مندرجہ ذیل ہیں.
تیز بخار
ذیادہ پسینہ آنا
سر درد
متلی اور قے
پیٹ کا درد
اسہال
خون کی کمی
پٹھوں میں درد
ذیادہ کھانسی
تکلیف کا احساس ہونا
کمزوری اور تناؤ
خونی پاخانہ
سانس لینے میں دشواری یا ناکامی
غیر معمولی خون بہنا
یرقان
تیز سانس لینا
تیز دھڑکن
اہم عضو کی خرابی۔
کوما میں جانا
پلاسموڈیم فیلیسیپیرم سب سے خطرناک بیماری کا سبب بنتا ہے اور اس سے موت بھی ہو سکتی ہے ، خاص طور پریہ انفکشن ان لوگوں میں پھیلتا ہے جن کو کئی دفعہ اس مچھر نے کاٹا ہو اور جب اس بیماری کا علاج نہیں کیا جاتا ہے تواس انفیکشن میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں جیسے:
دماغی ملیریا اس وقت ہوتا ہے جب یہ جراسیم دماغ کی خون کی رگوں کو روک دیتے ہیں جو پھول جاتی ہیں اور اس کے کچھ حصے خراب ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے بندہ کوما میں چلا جاتا ہے۔
پھپھڑوں میں پانی پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے
اہم عضو کی ناکامی جیسے گردے ، جگر اور تللی
خون کے سرخ خلیوں کو ہونے والے نقصان کی وجہ سے خون کی کمی
کم بلڈ شوگر
کیا ملیریا متعدی ہے؟
ملیریا ایک غیر متعدی بیماری ہے جو ہوا کے ذریعہ ایک سے دوسرے بندے میں منتقل نہیں ہوتی اور اسے جنسی طور پر بھی منتقل نہیں کیا جاسکتا ہے لہذا یہ براہ راست تعامل کے ذریعہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوسکتی۔ لیکن ملیریا صرف اسی وقت لوگوں میں منتقل ہوتا ہے جب انہیں انوفیلس مچھر نے کاٹ لیا ہو۔ اس کے علاوہ جن طریقوں کے ذریعے یہ جراسیم پھیل سکتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
متاثر شدہ انسان کا خون کسی دوسرے انسان کو لگانے سے
مریض کے خون سے آلودہ سرنجوں کا استعمال کرنے سے
حاملہ ماں سے حمل کے دوران یا پیدائش کے دوران اپنے بچے میں منتقل ہو سکتا ہے
ملیریا کا علاج
جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا ہے کہ ملیریا زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے ، لہذا آپ کو موزوں علاج تلاش کرنے کے لئے کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ چند ادویات جو ملیریا کے لۓ استعمال ہوتی ہیں وہ یہ ہیں:
کلوروکین(chloroquine)
آرٹسوٹن(artesunate)
میفلوکائن(mefloquine)
ایٹوفاین / پروگانیل (Atofaquin/Proguanil)
ڈوائنسائکلائن کے ساتھ کوئین سلفیٹ(Quinine sulfate with doxycycline)
پرائمکاوائن(Primaquin)
آخر میں ، میرے پیارے دوست اب آپ ملیریا کے متعلق تمام ضروری معلومات حاصل کر چکے ہیں اور ملیریا سے بچنے کے لۓ آپ کو لمبی پتلون، لمبے بازوں والی شرٹ اور سونے کے لۓ جالی والا ٹینٹ استعمال کرنا چائیے اس طرح آپ ملیریا سے بچ سکتے ہیں۔