پاکستانی کرونا ویکسینیشن سے گریزاں کیوں؟

منجانب: جواد Mar 08,2021
پاکستانی کرونا ویکسینیشن سے گریزاں کیوں؟

شام گھر آتے ہی خاتونِ خانہ نے  پاکستان کے ایک معروف ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی جانب سے کرونا وائرس  کی ویکسینیشن کے رضاکارکے تاثرات  پر مبنی ایک ویڈیو دکھائی، جہاں رضاکار اپنی اس بہادری پر شاداں دکھائی دیں وہیں وہ اس بات کا اظہار کرنا نہ بھولیں کے کیسے رضاکاروں کو حکومت کی جانب سے  پیسے دیے  گئے، بادی انظر میں ، ناظر کو یہ سمجھانا مقصود تھا کہ لوگ پیسوں کے لیے کرونا کی ویکسین لگوا رہے ہیں۔   تب سے اب تک میں  بیگم کو ویکسین لگوانے کے لیے دلائل تلاش کر رہا ہوں۔ خاتون خانہ اس امر پر متفق ہیں کہ میرا ان کوویکسینیشن  کے لیے قائل کرنا ، دراصل ان سے جان چھڑانے کا ایک  طریقہ ہے۔

اور میں جانتا ہوں میں اکیلا اس صورتحال کا شکار نہیں۔

جب سے یہ  وبائی بیماری شروع ہوئی ہے بائیس کروڑ کی آبادی  پر مشتمل ملک ، پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ،  تا دم تحریر،  13،228 اموات کے ساتھ ، وائرس کے لگ بھگ600000  سے زیادہ کیسز رجسٹرڈ ہیں۔

یہاں اموات کی شرح 2.2 فیصد ہے ، جو بظاہر توکئی ترقی یافتہ ممالک سے بہتر معلوم ہوتی ہے مگر عقدہ تب کھلتا ہے جب اس کےٹیسٹ کی شرح کا جائزہ لیا   جائے ۔ جو ہر  1000 افراد میں سے 0.18  ہے۔ 

فروری میں ، حکومت نے چین کی طرف سے عطیہ کی گئی سینوفرم  Sinopharm ویکسین کی 500،000 سے زیادہ خوراکیں آنے کے ساتھ ہی ابتدا میں فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر کے لاکھوں کارکنوں کے لئے ویکسین  مہیا کرنے کا اعلان کیا۔

تاہم ، تقریبا فورا ہی یہ مہم گومگو کی کیفیت کا شکار ہو گئی۔

جہاں شروع میں اس ویکسین کی کھیپ کو زیڈ گریڈ سکیورٹی مہیا کی گئی اور   ایک سابق گورنر کی صاحبزادی کو ویکسین لگانے کی بے تابی پر طنز کے تازیانے برداشت کرنے پڑے ، وہیں کچھ ہی عرصے میں محکمہ صحت ان ہیلتھ ورکرز کو تلاش کرتا پایا گیا جنہوں نے خود کو  ویکسین لگوانے کے لیے رجسٹرڈ کروایا تھا۔ 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ، ویکسین شروع ہونے کے پہلے دو ہفتوں میں ، سندھ میں صرف 32،582 فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر کارکنوں نے ویکسین حاصل کی تھی، جبکہ یہاں  ویکسینیشن کے لیے اہل افراد   78،000 ہیں۔ دوسرے صوبوں میں صورتحال اس سے بھی بدتر تھی۔

تازہ صورتحال یہ ہے کہ ویکسینیشن مہم کا ایک ماہ سے زیا دہ عرصہ گزر جانے کے  باوجود پاکستان اب تک لگ بھگ   197,000  افراد کو ویکسین دے پایا ہے  یعنی   سو 100 افراد کی آبادی میں سے  0.09  افراد کو .  اس کارکردگی نے پاکستان کو(Ourworldindata) کے کرونا ویکسینیشن کے پروگرام کے گراف میں موجود تمام ممالک میں سب سے اخیر میں لا کھڑا کیا ہے۔

مزید بر آں، اعداد و شمار کے مطابق ، 65 سال سے زائد عمر کے والے 80 لاکھ شہریوں میں سے صرف 240،000 افراد نے اگلے مرحلے میں ویکسین وصول کرنے کے لئے اندراج کیا ہے۔ یعنی کل تعداد کا صرف تین فیصد۔ 

ہچکچاہٹ کیوں؟

صوبہ سندھ میں ویکسی نیشن پروگرام سے منسلک سینئر اہلکار کے مطابق ہیلتھ ورکرز اس ویکیسن کے ممکنہ مضر اثرات یا رد عمل کے بارے میں فکر مند ہیں۔  پشاور کے ایک  ڈاکٹر نے بھی اسی طرح کی تشویش کا اظہار کیا۔ رہی سہی کسر پنجاب کی وزیر صحت کے اس بیان نے پوری کر دی کہ جس نے ویکسین لگانی ہے اپنی ذمہ داری پر لگائے۔ 

تاہم پاکستان کے وزیر صحت ، ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق ویکسین سے متعلق ہیلتھ ورکرز کی  ہچکچاہٹ کے بارے میں  اعداد و شمار کا تجزیہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ ویکسین کی افادیت پر زور دیتے وہ یہ یاد دلانا نہ بھولے کہ منظور شدہ کرونا ویکسینز کی حفاظتی شرح 90  فیصد سے زائد ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ برائے متعدی امراض کے سربراہ ، ڈاکٹر فیصل محمود کے مطابق  ویکسین سے اجتناب برتنے کی سب سے بڑی وجہ اس کے رد عمل سے متعلقہ تو ہے ہی مگر سوشل میڈیا پر پھیلی افواہ نما خبروں سے مزید بد اعتمادی کی فضا پھیلی ہے۔ 

پاکستان میں  فی الحال چینی سینوفرم ویکسین دی جا رہی ہے ، جبکہ  عالمی CoVAX اقدام کے تحت مارچ  سے  مئی کے درمیان ، دو اقساط میں  آکسفورڈ آسٹرا زینیکا ویکسین  Oxford-AstraZenecaکی 14.6 ملین خوراکیں آرہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے روسی اسپوتنک وی Sputnik V ویکسین کے استعمال کی بھی منظوری دے دی ہے۔

معتبر میڈیکل جریدے دی لانسیٹ  The Lancetکے مطابق ، یہ تینوں ویکسین کلینکل ٹرائلز کے فیز  III سےگزر چکی ہیں اور کم از کم 10 ممالک میں اجتماعی طور پر استعمال میں ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں استعمال کی جانے والے حالیہ ویکسین  سینوفرم  Sinopharm متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ مشرق وسطی کے ممالک میں بھی استعمال کی جا رہی ہے۔

حکومت پر عدم اعتماد

پاکستان  میں ویکسین سے متعلق ہمیشہ ہچکچاہٹ رہتی ہے۔ہمارا میڈیا  سائنسی اعداد و شمار کو عام لوگوں تک عام فہم زبان میں سمجھانے کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہے  ۔  یہی وجہ ہے کہ یا تو لوگ سمجھ ہی نہیں پاتے یا مزید شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔  

یہ بھی ایک حقیقت ہے کے علاج کی افادیت سے متعلق اعداد و شمار ہی شکوک و شبہات کو رفع کرنے کے لیے کافی نہیں،  صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں پر  مجموعی طور پر اعتماد بھی اہم ہے۔

پاکستانی نظام  صحت تک  عام آدمی کی رسائی اور بچوں کی اموات کی  شرح کی وجہ سے عالمی منظر نامے پر پاکستان مستقل تنزلی کا شکار ہے۔یہ دنیا کے ان دو ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کا مرض اب بھی موجود ہے  اور اسے صحت سے متعلق متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے۔

باوجود اس کے کہ ویکسین بین الاقوامی کمپنیاں تیار کرتی ہیں اور اسے بنانے میں بہترین تکنیکی صلاحیتوں اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔ عوام حکومت اور نظام صحت پر اعتماد نہیں کرتی۔ حکومت اس وقت تک ایسی حکمت عملی نہیں اختیار کر سکی جہاں عام لوگوں کو یہ اعتماد دلایا جا سکے کہ کیا یہ ایک آزمائشی ویکسین ہے یا ایک مکمل طریقہ علاج؟

عدم اعتماد کی وجہ عوام ِ میں موجود یہ  تصور بھی  ہے کہ یہ غیر ملکی مالی اعانت سے چلتا پروگرام  ہے ، لہذا اس کے لئے کوئی اور ایجنڈا بھی ہوسکتا ہے۔  اسی رجحان نے ملک میں جاری پولیو کے خاتمے کی مہم کو مزید چیلنجز سے نبرد آزما کیا ہے۔

معاشرتی بے حسی

گومگو کی کیفیت کے علاوہ ، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وائرس کے بارے میں عام لوگوں میں بھی بے حسی کا احساس پایا جاتا ہے ، جس کی وجہ  پاکستان میں COVID-19 سے نسبتا کم اموات اور شدید  بیماری میں مبتلا ہونے کی کم شرح ہے۔

معاشرہ میں ایک  احساس موجود ہے کہ "ہمیں کیوںویکسین حاصل کرنا چاہئے؟ اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ کورونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ "جب یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تو ویکسین لینے کی کیا وجہ؟

گزشتہ جون میں ملک میں کورونا وائرس کے عروج کے دوران ، پاکستان میں روزانہ 6،000 سے زیادہ کے واقعات  رپورٹ ہوئے اور 19 جون کو روزانہ اموات 155 ہوگئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب  اہم شہروں میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ وینٹیلیٹر کی کمی کی وجہ سے مزید  مریضوں کو داخل کرنے سے قاصر تھے۔

تاہم ،  جونہی شرح بہتری کی طرف بڑھی ، سماجی فاصلوں سے متعلقہ معاملات  پر حکومت نےبھی پابندیا ں نرم کردیں۔

نومبر کے آخر میں ملک میں دوسری بار کرونا وائرس سے متاثرہ کیسز کی تعداد نے عروج حاصل کیا اور تب سے اب تک یہ سطح بظاہر خاطر خواہ کم ہوتی نہیں دکھائی دے رہی۔

کرونا کے کیسز اور اموات کی سست شرح ، وائرس کی سنگینی کے بارے میں عوامی عدم توجہی کا باعث ہے۔

عوام میں ایسے لوگ ابھی بھی کثرت سے ہیں جو  کوویڈ پر یقین نہیں رکھتے ہیں ، تو ایسے  لوگوں کو ویکسین لینے کے لیے کیسے قائل کریں گے؟

ماہرین کے مطابق پاکستان یا کوئی بھی ملک جہاں ویکسین پروگرام پر عمل کرنے کی شرح کم ہو گی، وہاں کرونا وائرس کی مزید لہروں کاامکان ہمیشہ رہے گا، معمول کی زندگی کو دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت کا انحصار بہت حد تک اس بات پر ہی ہے کہ  پاکستانی قوم  کتنی جلدی وائرس سے استثنیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، اور فی الوقت یہ سنگ میل عبور کرنے کا واحد راستہ ویکسینشن پروگرام سے ہو کر گزرتا ہے۔ 

اگرچہ ویکسین جادو کی گولی نہیں اور معاشرتی پابندیوں پر کاربند رہنا پھر بھی اتنا ہی ضروری ہو گا مگر ویکسین کے بغیر ہم ہمیشہ زیادہ خطرے میں رہیں گے۔

اندیشہ ہائے دور دراز

حکومت کے لیے ویکسین کی سست رفتار تقسیم کا مسئلہ ،  ویکسین لگوانے سے یکسر انکار کی نسبت بہرحال زیادہ سنگین معلوم ہوتا ہے۔ 

اعداد و شمار کے مطابق ، رواں ہفتے ، ملک بھر میں ہر روز ویکسینیشن کی تعداد 15،000 تک پہنچ گئی ، جو مہم کی ابتدا  میں روزانہ 3،000 تھی۔

ڈاکٹروں کا بھی کہنا ہے ایک بار جب لوگوں نے ویکسین لگانی شروع کردی اور انہوں نے دیکھا کہ لوگ ضمنی اثرات کا شکار نہیں ہو رہے ہیں ، تو یہ بہتر ہوتا جا رہا ہے، آگاہی بڑھ  رہی ہے اور ویکسین لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔  پشاور جہاں ابتدا میں روزانہ صرف 36 محکمہ صحت کے کارکنوں کو ویکسین دی گئی تھی ، اس وقت اسی  اسپتال میں 70 سے 80 کے درمیان ڈاکٹروں کو ویکسین دی جارہی ہے۔ .

اگر  ویکسین لگانے کی رفتار میں یونہی  تیزی آتی رہی تو  پاکستان کو اس کی طلب سے زیادہ اس  کی سپلائی کا مسئلہ درپیش ہو گا۔

فی الحال ، حکومت نے سینوفرم Sinopharm اور آکسفورڈ یونیورسٹی-آسٹرا زینیکا ویکسین Oxford University-AstraZeneca vaccines (ہر فرد کو جس کی دو خوراک چاہیے) کی تقریبا 15 15.85 ملین ڈوز کی سپلائی کی تصدیق کی ہے جو مئی کے آخر تک چینی سرکاری گرانٹ اور کوووکس اقدام  COVAX initiative کے ذریعے پہنچ رہے ہیں۔

یقینا ، بائیس کروڑ کی آبادی کے حامل اس ملک کی ضروریات کا احاطہ ویکسین کے اس تخمینے سے نہیں کیا جا سکتا۔ 

وزیر صحت کے مطابق حکومت کو  سال کے اختتام تک ساڑھے چار سے پانچ کروڑ افراد کے لیے ویکسین چاہیے ہو گی، اور اس رسد کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں کسی بھی جگہ کسی ادارے سے جو کچھ دستیاب ہوا وہ حاصل کریں گے۔

حکومت نے نجی شعبے کو بھی منظور شدہ ویکسین، فروخت کے لیے  حاصل کرنے کا اختیار دیا ہے ، اگرچہ عالمی سطح پر ویکسین کی فراہمی کی کمی کی وجہ سے کوئی بھی کمپنی ابھی تک ایسا کر نہیں پائی۔

تاہم صحت عامہ سے متعلق افراد اس  شبہ کا شکار ہیں کہ مفت سرکاری ویکسین میں کمی کے دوران نجی شعبہ کی جانب سے ویکسین کی سپلائی مہیا رہی، تو معاشرے میں اس کی تقسیم منصفانہ نہیں رہ پائے گی، جن کے پاس وسائل ہوں گے وہ تو آرام سے ویکسین لے لیں گے لیکن عام آدمی متحمل نہ ہو پائے گا۔

حوالہ جات

  1. پاکستان کرونا ہیلتھ ایڈوائزری پلیٹ فارم
  2. ہماری دنیا ڈیٹا کی نظر میں
  3. مختلف ممالک میں نظام صحت پر دسترس کا متاقابلی جائزہ
  4. کرونا ویکیسن کس قدر موثر ہیں
  5. وزیر صحت پنجاب کی پریس کانفرنس
  6. عرب ممالک کی چاِئینز ویکسین کی منظوری
  7. کتنے ممالک اب تک چائینیز ویکین لے چکے ہیں